چنئی، 18 مارچ ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) آئندہ لوک سبھا انتخابات میں تمل ناڈو میں انادرمک اور اپوزیشن ڈی ایم کے آٹھ سیٹوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گی۔دونوں پارٹیوں کے درمیان جنوبی چنئی، کانچی پورم (درج فہرست ذات کے لئے محفوظ)، تروننت پورم ، ترنیلویلی، میلادترے، سلیم، نیلگری (درج فہرست ذات کے لئے محفوظ) اور پولاچی سیٹ پر سیدھی جنگ ہو جائیگی ۔انادرمک اور ڈی ایم کے دونوں پارٹیاں ریاست میں 20 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہیں اور باقی 19 سیٹیں انہوں نے اپنی اپنی حلیف پارٹیوں کو دیا ہے۔دونوں پارٹیوں کی جانب سے اتوار کو اعلان فہرست میں لوک سبھا کے نائب صدر ایم تھنبی دورے(انادرمک) اور راجیہ سبھا رکن کنموئی (ڈی ایم کے ) سمیت کئی بڑی شخصیتوں کے نام شامل ہیں۔تھنبی دورے ایک بار پھر کرور سیٹ سے الیکشن لڑیں گے، جبکہ پی وینو گوپال اور جے جیوردھن بالترتیب ترولور اور جنوبی چنئی سے الیکشن لڑیں گے۔دونوں نے آخری بار بھی اسی سیٹ سے الیکشن لڑا تھا۔نائب وزیر اعلی اور انادرمک کے کوآرڈینیٹر اوپننیرسیلوم کے بیٹے پی رابندر کمار تھینی سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔حکمران پارٹی نے 19 دیگر نشستیں تمل ناڈو میں بی جے پی اور پٹالی مکل کاچی (پی ایم کے) سمیت اپنی اتحاد ی پارٹیوں کو مختص کیا ہے۔پارٹی ہیڈکوارٹر میں بات چیت کے بعد اتوار کی رات کو پارٹی نے امیدواروں کی فہرست جاری کی۔اس سے پہلے دن میں ڈی ایم کے چیئرمین ایم کے اسٹالن نے امیدواروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دیاندھی مارن وسطی چنئی سے، اے راجہ نیل گری اور ٹی آر بالو شريپیرمبدر سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔بالو2009 میں اسی سیٹ سے کامیاب ہوئے تھے۔اسٹالن کی بہن اور راجیہ سبھا رکن کنموئی پہلی بار لوک سبھا انتخابات میں اپنی قسمت آزمائیں گی۔کنموئی جنوبی تامل ناڈو میں تتکورین سیٹ سے الیکشن لڑیں گی۔راجیہ سبھا میں ان کی مدت کار اس سال جولائی میں ختم ہونے والی ہے۔ ڈی ایم کے نے اس بار کے انتخابات میں کل 12 نئے چہروں کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ ریاست میں 39 لوک سبھا سیٹوں میں سے ڈی ایم کے 20 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے اور باقی سیٹیں اس نے کانگریس سمیت اپنی اتحادی پارٹیوں کے لیے چھوڑی ہیں۔اسٹالن نے بتایا کہ ڈی ایم کے کا منشور جلد جاری کیا جائے گا۔ڈی ایم کے نے ریاست میں 18 اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے بھی اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات 18 اپریل کو لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہی ہوگا۔